ابنا: سربراہ شیعہ علماء کونسل پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے سینئر نائب صدر علامہ سید ساجد علی نقوی نے کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے دو مختلف واقعات میں سات افراد کی شہادت اور متعدد کے زخمی ہونے اور سانحات کے بعد پائی جانے والی کشیدگی پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی گذشتہ روز کے سانحہ جس میں ایڈیشنل سیشن جج سید ذوالفقار حسین نقوی اور انکے گن مین اور ڈرائیور کی شہادت پر قوم سوگوار تھی کہ اگلے روز دو اور واقعات میں درجنوں خاندانوں کو اپنے پیاروں کے لاشے اٹھانے پڑے۔ تسلسل کے ساتھ رونما ہونے والے ان واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ ریاست اور حکومت عوام کو جانی و مالی تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے، دہشت گردوں اور انکے سرپرستوں کو بے نقاب نہیں کیا جا رہا، عوام کو اصل حقائق سے بے خبر رکھا جا رہا ہے اور عملاً دہشت گردوں کا راج ہے۔
اپنے مذمتی بیان میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ کوئٹہ، کراچی، پاراچنار، گلگت، چلاس، کوہستان، لولوسر (ٹھنڈا پانی) ہو یا ملک کے دیگر علاقے الغرض ملک کا گوشہ گوشہ بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی وجہ سے غم و اندوہ اور حسرت و یاس کی تصویر بنا ہوا ہے اور عوام میں شدید احساس عدم تحفظ سے ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس انتہائی گھمبیر صورت حال میں دہشت گردوں کے حوصلہ بڑھ گئے ہیں اور انہیں آئین، قانون اور روایات و اخلاقی اقدار میں سے کسی چیز کی پرواہ نہیں، پاکستان کو قاتلستان میں تبدیل کر دیا گیا۔ ان دلخراش واقعات کے باوجود دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے جا رہے اور نہ ہی عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کی زحمت گوارہ کی جاتی ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے ہزار گنجی کوئٹہ کے سانحات میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے دلی دکھ اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور شیعہ علماء کونسل بلوچستان کے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ متاثرہ خانوادوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے زخمیوں کے علاج معالجے میں ضروری تعاون کریں۔
.....
/169